حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعه مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن اور مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا: مداحی اور مرثیہ سرائی کو اسلام کی اقدار کی تبیین کا باعث ہونا چاہیے اور حقیقی عزاداری وہ ہے جو جوانوں میں مقاومت اور جان نثاری کا جذبہ پیدا کرے۔
انہوں نے کہا: رہبر شہید (رہ) کی مداحی اور مرثیہ سرائی پر خاص توجہ تھی۔ انہوں نے ذاکرین اور مداحوں کو دیے گئے رہنما اصولوں کو جمع کرنے اور انہیں تمام عزاداری گروہوں تک پہنچانے کی تاکید کی تھی۔
مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ نے کہا: رہبر شہید (رہ) نے مداحی کی حقیقت کو احیاء کیا اور زور دیا کہ مداحی اور مرثیہ سرائی اسلام کی اقدار کی تبیین کی راہ میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے شعراء کو نصیحت کی کہ وہ اپنے اشعار کو زمانے کے حالات کے مطابق بنائیں اور اسے ایک مداح اپنی خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھے تاکہ جوانوں اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں جاری رہے۔
انہوں نے امام رضا علیہ السلام کے ایک فرمان «إِنَّ یَوْمَ الْحُسَیْنِ أَقْرَحَ جُفُونَنَا وَ أَسْبَلَ دُمُوعَنَا وَ أَذَلَّ عَزِیزَنَا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "بے شک غمِ حسین سے ہماری روح اور دل ایسے زخمی ہیں جو کبھی تسکین نہیں پا سکتے"۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا: روایات میں امام حسین علیہ السلام پر اشک بہانے کے سات سے آٹھ اہم اثرات بیان کیے گئے ہیں۔ عزاداری کی مجالس میں گریہ و عزا کو فروغ دیں اور جوانوں کو عادت ڈالیں کہ وہ تنہائی میں بھی امام حسین علیہ السلام کو یاد کریں اور اشک بہائیں۔
انہوں نے کہا: اس سال محرم میں ہمیں رہبر شہید (رہ)، فوجی کمانڈروں، عوام اور میناب کے 168 بچوں کی شہادت کا بھی غم ہے لیکن عزاداری امام حسین علیہ السلام کی کوئی مثال نہیں۔
جامعه مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے لوگوں کو رہبر شہید (رہ) اور اہل بیت علیہم السلام کے درمیان کسی قسم کی موازنہ کرنے سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ یہ بڑا انحراف ہے۔ ہمارے رہبر شہید (رہ) خود بھی اس طرح کی مقایسات کے خلاف تھے اور فرماتے تھے کہ "میں امیرالمومنین علیہ السلام کے غلام قنبر کے پاؤں کی خاک بھی نہیں ہوں"۔
انہوں نے مزید کہا: عزاداری کی حقیقت یہ ہے کہ وہ عزاداروں میں مقاومت کا جذبہ پیدا کرے اور جوانوں کو دشمن کے مقابلے میں جانفشانی کے لیے تیار کرے۔ اشک بر امام حسین علیہ السلام کا اتنا بڑا ثواب اس لیے ہے تاکہ ایسے مجاہد تربیت ہوں جو اسلام اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کا دفاع کریں۔









آپ کا تبصرہ